پلاسٹک سے ایندھن کی تیاری میں ابتدائی کامیابی

نیویارک: (کوہ نور نیوز) ماحول کے ایک بڑے وِلن پلاسٹک کے بارے میں خبر آئی ہے کہ سائنسدانوں نے اسے کئی مراحل سے گزار کر ایندھن میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ امریکہ میں پورڈوا یونیورسٹی کے ماہرین نے پالیمر کی ایک ایسی قسم کو ایندھنی ہائیڈروکاربنز میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس سے دنیا کا 25 فیصد پلاسٹک ایندھن میں بدلا جاسکتا ہے کیونکہ فی الحال پولی پروپائیلین کو ہی ڈیزل کی ایک قسم کے ایندھن میں بدلنے کا تجربہ کیا گیا ہے۔ یہ اہم کام کیمیکل انجینیئر لِنڈا وینگ نے انجام دیا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ ان کی ایجاد سے پلاسٹک ری سائیکل (بازیافت) کرنے والے کارخانوں کے منافع میں اضافہ ہوگا اور دنیا میں موجود پلاسٹک کا پہاڑ بھی کم سے کم ہوسکے گا۔ پلاسٹک کو ری سائیکل کرنے کے لیے اسے ایک ساتھ بھینچا اور گرم کیا جاتا ہے۔ 500 درجے سینٹی گریڈ اور 23 میگا پاسکل پریشر پر اسے چند گھنٹوں رکھا جائے تو پلاسٹک اپنی شکل بدل لیتا ہے۔اس عمل کو ہائیڈروتھرمل لیکوفیکیشن کہا جاتا ہے اور پلاسٹک کی 90 فیصد مقدار ایندھنی درجے کی ایک شے نیفتھا میں بدل گئی جس میں ہائیڈروکاربنز کی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ عمل کچھ مہنگا ہے لیکن یاد رہے کہ ماحول دوست عمل اور پلاسٹک ٹھکانے لگانے کی یہ کوئی زیادہ قیمت نہیں ہے۔ لِنڈا وینگ کے مطابق اگلے مراحل میں اس سے نیفتھا اور صاف ایندھن بنانے کی کوشش کی جائے گی تاہم حتمی منزل ابھی بہت دور ہے۔ پلاسٹک اس وقت ماحول کے لیے خوفناک عذاب بن چکا ہے۔ اول یہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور دھیرے دھیرے ٹوٹ کر مزید باریک ٹکڑوں میں تقیسم ہوتا ہے اور ان کی مقدار اب ہماری غذا میں بھی شامل ہوتی جارہی ہے۔ سمندروں میں پلاسٹک نے ہولناک تباہی پھیلائی ہے جس سے جانور مررہے ہیں اور خوردنی مچھلیوں میں بھی ان کے آثار نمایاں ہیں۔