طالبان اور امریکا کے درمیان 17 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ

دوحہ: (کوہ نور نیوز) اطلاعات کے مطابق دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں 18 ماہ کے اندر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق کر لیا گیا۔ جنگ بندی کا شيڈول آئندہ چند روز میں طے کیا جائے گا جبکہ طالبان جنگ بندی کےبعد افغان حکومت سے براہ راست بات کریں گے ۔ خیال رہے کہ افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان قطر میں گزشتہ ایک ہفتے سے مذاکرات جاری تھے جن میں جنگ بندی اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء پر غور کیا جارہا تھا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی حکام ایسے امن معاہدے کے خواہاں ہیں جس کے تحت طالبان کی آئندہ افغان حکومت میں شمولیت کی راہ ہموار ہوسکے۔ امریکی حکام کا یہ بھی اصرار ہے کہ طالبان موجودہ افغان حکومت سے مذاکرات کا آغاز کریں تاہم طالبان اب تک اس سے انکار کرتے آئے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ برس دسمبر میں بھی پاکستان کی معاونت سے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں افغان امن مذاکرات ہوئے تھے جس میں طالبان سمیت فریقین نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس وقت یہ بات سامنے آئی تھی کہ مذاکرات میں شریک طالبان نمائندے اپنی شوریٰ سے بات کریں گے اور شوریٰ سے بات چیت کے بعد دوبارہ زلمےخلیل زاد سے ملاقات کریں گے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی معاونت سے شروع ہونے والے مذاکرات میں امریکا اور افغان طالبان کے علاوہ اماراتی اور سعودی حکام بھی حصہ تھے۔ دسمبر کے مہینے میں ہی وزیراعظم عمران خان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خط لکھا تھا جس میں پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تعاون مانگا گیا تھا جس کے جواب میں وزیراعظم نے کہا تھا ہم افغانستان میں امن لانے کے لیے خلوص کے ساتھ پوری کوشش کریں گے، اس کے بعد طالبان اور امریکی حکام کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے تھے۔