گیس بحران: وزیراعظم کی وزارت پیٹرولیم کو فوری جامع پالیسی تیار کرنے کی ہدایت

اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ملک کی بہت بڑی اکثریت گیس سے محروم ہے جس کی وجہ گیس کی سپلائی میں کمی ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 28 فیصد عوام کو موجودہ سسٹم کی عام گیس فراہم کی جا رہی ہے جب کہ 63 فیصد عوام ایل پی جی استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کو ہر سال 50 ارب روپے کی گیس چوری کا سامنا ہے۔ فواد چوہدری نے بتایا کہ وزارت پیٹرولیم کو گیس سے متعلق جامع پالیسی فوری بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے جب وزارت پیٹرولیم سنبھالی تو ایک روپہ بھی قرضہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی خود کو گیس کا آئن اسٹائن ہی سمجھتے ہیں لیکن انہوں نےگیس سیکٹر کو اربوں روپے کا مقروض کر کے چھوڑا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جس چیز پر مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے ہاتھ رکھا اس میں کرپشن ںظر آئی۔ منی لانڈرنگ اسکینڈل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آصف زرداری، مراد علی شاہ اور فریال تالپور کرپشن اسکینڈل میں مرکزی کردار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جےآئی ٹی کی سفارشات پر 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت قانون نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ابھی تک انہیں نہیں ملا، تحریری فیصلہ آتے ہی اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ایی سی ایل میں شامل ناموں کا جائزہ لے گی، کمیٹی جائزہ لےگی کہ فیصلے کے خلاف عدالت جانا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی کمیٹی کی جانب سے 20 افراد کے نام فوری ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش مسترد کر دی، یہ افراد بے نامی اکاؤنٹس سے اربوں ڈالر بیرون ملک بھجوانے میں ملوث ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے موجودہ معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹاک ایڈونسز کی مد میں 60 فیصد تک اضافہ ہوا جب کہ جنوری کے مہینے میں 4 فیصد قرضوں میں کمی آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے دوہری شہریت کے حامل افراد کے لوگوں کے لیے پاکستان میں کام کرنے کے مواقع پیدا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے وزارت قانون کو 48 گھنٹوں میں اوورسیز پاکستانیوں کی نوکریوں سے متعلق فہرست پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ملک کے اندر روزگار کے مواقع وسیع کرنا چاہتے ہیں، ایسی نوکریوں کی فہرست بنانے کی ہدایت کی گئی ہے جو اوورسیز پاکستانی نہیں کر سکتے ہیں۔