سپریم کورٹ نے راؤ انوار کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) راؤ انوار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی درخواست مسترد کردی۔ راؤ انوار نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ وہ ضمانت پر ہیں اور عمرے کے لیے جانا چاہتے ہیں، لہذا ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔راؤ انوار کا مزید کہنا تھا کہ 'میرے بچے بھی ملک سے باہر ہیں، مجھے ان سے بھی ملنا ہے، عدالت جب بھی بلائے گی حاضر ہوتا رہوں گا'۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آج راؤ انوار کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 'راؤ انوار بری کیسے ہوگیا؟' جس پر وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل بری نہیں ہوئے، ضمانت پر ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'اگر ضمانت پر ہے تو ضمانت پر رہنے دیں'۔ ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ 'ہمیں پتا ہے کہ کس طرح راؤ انوار کو پکڑوایا تھا، کیا راؤ انوار ریاست کے لیے اتنا اہم ہے کہ اس کے ساتھ اتنا خصوصی سلوک ہو رہا ہے'۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ 'راؤ انوار باہر جانے کی بات کر رہا ہے، اس کا پاسپورٹ ضبط ہونا چاہیے'۔ جس پر وکیل نے کہا کہ 'ان کے کچھ گھریلو مسائل ہیں، جس کہ وجہ سے وہ جانا چاہتے ہیں'۔ تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'گھر والوں کو کہیں راؤ انوار سے یہاں آکر مل لیں'۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ 'ایک جوان بچہ نقیب اللہ مار دیا گیا، راؤ انوار یہاں سے کمایا ہوا پیسہ باہر منتقل کرنا چاہتا ہوگا'۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے راؤ انوار کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست مسترد کردی۔ کمرہ عدالت میں موجود مقتول نقیب اللہ کے والد نے راؤ انوار کی درخواست مسترد ہونے پر عدالت کا شکریہ بھی ادا کیا۔