نئی پاکستانی قیادت سے جلد ملنے کا منتظر ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن: (کوہ نور نیوز) 2019 کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کے لیے امریکا کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا۔ کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ نئی پاکستانی قیادت سے جلد ملنے کے منتظر ہیں اور پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ اس طرح سالِ نو پر امریکی صدر کے اس مثبت پیغام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاک-امریکا تعلقات پر جمی برف بالآخر پگھلنے لگی ہے۔ پاک-امریکا تعلقات میں تناؤ واضح رہے کہ گذشتہ برس یکم جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹوئیٹ کے بعد سے ہی دونوں ملکوں کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ 'ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالر امداد دے کر حماقت کی جبکہ بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا'۔عدازاں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھی پاکستان کی سیکیورٹی معاونت معطل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ اور دیگر افغان طالبان کے خلاف کارروائی تک معاونت معطل رہے گی۔ دوسری جانب گذشتہ برس نومبر میں ایک ٹی وی انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ 'پاکستان نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا'۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'ہم پاکستان کو سالانہ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ دیتے تھے، ہم پاکستان کو سپورٹ کر رہے تھے اور القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن وہاں ملٹری اکیڈمی کے قریب آرام سے رہائش پزیر تھا۔پاکستان میں ہر کوئی اسامہ بن لادن کے بارے میں جانتا تھا لیکن انہوں نے ہمیں اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا'۔امریکی صدر نے بعدازاں ٹوئٹر پر بھی اسی قسم کے بیانات داغے، جس پر پاکستانی قیادت کی جانب سے بھرپور ردعمل سامنے آیا۔ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کا 'ریکارڈ درست' کرتے ہوئے کہا کہ 'نائن الیون حملوں میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا، ڈونلڈ ٹرمپ کے غلط دعوے دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کو جانی و مالی نقصان کی صورت میں لگنے والے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے'۔ عمران خان نے مزید کہا کہ 'امریکی صدر کو تاریخی حقائق سے آگاہی کی ضرورت ہے، پاکستان نے امریکی جنگ میں بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے لیکن اب ہم وہی کریں گے جو ہمارے اور ہمارے لوگوں کے مفاد میں بہتر ہوگا'۔تاہم بعدازاں معاملات میں اُس وقت نیا موڑ آیا جب گذشتہ برس دسمبر میں وزیراعظم عمران خان نے ٹی وی اینکرز اور سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران اس بات کا انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں خط لکھا ہے، جس میں پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تعاون مانگا گیا ہے۔ بعدازاں وائٹ ہاؤس نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو خط بھیجے جانے کی تصدیق کردی۔