کراچی: صدر اور اطراف میں کے ایم سی کا آپریشن چوتھے روز جاری

کراچی: (کوہ نور نیوز) صدر اور اس کے اطراف میں تجاوزات کے خلاف کے ایم سی کا آپریشن چوتھے روز بھی جاری ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی کے علاقے صدر اور اس کے اطراف کے ایم سی کا انسداد تجاوزات آپریشن چوتھے روز جاری ہے جس میں تبت سینٹر، اکبر روڈ اور زیب النساء اسٹریٹ پر بھی آپریشن کیا جارہا ہے جب کہ اس موقع پر امن و امان کی صورتحال پر قابو رکھنے کے لیے پولیس، رینجرز کی بھاری نفری موجود ہے۔ ایمپریس مارکیٹ کے سامنے دکانداروں کا دھرناایمپریس مارکیٹ کے اطراف آپریشن میں دکانیں گرائے جانے پر دکانداروں نے ایمپریس مارکیٹ کے سامنے دھرنا دے دیا۔ دکانداروں کا مؤقف ہےکہ وہ 50 سالوں سے کے ایم سی اور دیگر اداروں کو لاکھوں روپے ادا کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود اچانک دکانیں گرادی گئیں۔ دکانداروں نے مطالبہ کیا ہےکہ جب تک انہیں متبادل جگہ فراہم نہیں کی جاتی ان کا دھرنا جاری رہےگا جب کہ ایمپریس مارکیٹ کے دکانداروں نے بھی آج مارکیٹ بند رکھی ہے۔ میئر کراچی کی میڈیا سے گفتگو آپریشن کے دوران میئر کراچی وسیم اختر اور کمشنر کراچی نے بھی ایمپریس مارکیٹ کا دورہ کیا اور آپریشن کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ کی اصل شکل اور شہر کی خوبصورت لوٹانا چاہتے ہیں، ماضی میں جو غلطیاں ہوئیں انہیں نہ دہرایا جائے، کے ایم سی نے جو علاقے کرائے پر دیئے ہوئے تھے ان سب کنٹریکٹ کو ختم کردیا گیا ہے۔ دکانداروں کو دوسری مارکیٹ میں جگہ دیں گے: وسیم اختر انہوں نے کہا کہ کسی کا روزگار چھیننا نہیں چاہتے، ہم تجاوزات کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اب کراچی میں تجاوزات نہیں ہونے دیں گے، اگر کوئی قانون کو ہاتھ میں لے گا تو اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ میئر کراچی نے دکانداروں کے دھرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرنا چاہتے ہیں، ہم کسی کے ساتھ ناجائز نہیں ہونے دیں گے، تجاوزات کے خاتمے پر تاجر برادری خوش ہے۔ وسیم اختر نے کہا کہ آپریشن کے نتیجے میں بیروزگار ہونے والوں کو متبادل مارکیٹ میں جگہ دیں گے۔