واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث ’پی ایس او‘ کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ

کراچی: (کوہ نور نیوز) پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے جب کہ ڈیفالٹ کی صورت میں آئل، ایل این جی اور پٹرولیم مصنوعات کی سْپلائی رک جائے گی۔کوہ نور نیوزکے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل کے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے جب کہ ڈیفالٹ کی صورت میں آئل، ایل این جی اور پٹرولیم مصنوعات کی سْپلائی رک جائے گی، پی ایس او نے ڈیفالٹ سے بچنے کیلئے فوری طور پر ساڑھے ساٹھ ارب روپے مانگ لئے ہیں۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی آج پی ایس او کے بقایاجات کی وصولی کا جائزہ لے گی اورای سی سی کو سیکرٹری منصوبہ بندی کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے سفارشات بھجوا دی گئی ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ پاور پلانٹس کوفیول کی سپلائی کیلئے پی ایس او کو 50 ارب روپے جاری کرنا ہوں گے، پاور پلانٹس اور پاور ڈویڑن کو معاہدہ کے مطابق فیول انونٹری برقرار رکھنا ہوگی۔ کمیٹی نے سفارش دی ہے کہ حبکو کو 13 دن اور کیپکو کیلئے 21 دن کیلئے فیول انونٹری رکھنا ہوگی۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ 55 ارب روپے پاور ڈویڑن یومیہ ریونیوسے پی ایس او کو فراہم کرے گی۔ دوسری جانب پی ایس او نے پاور سیکٹر اور پی آئی اے سے مجموعی طور پر 323 ارب 30 کروڑ روپے وصول کرنا ہیں اورسوئی ناردرن کے ذمہ بھی ایل این جی کی مد میں 19 ارب بیس کروڑ روپے کے واجبات ہیں۔ واضح رہے کہ پی ایس او کے 26 اگست تک پاور ڈویڑن کے ذمہ واجبات 227 ارب 70 کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں جب کہ رواں ماہ کی فیول ڈیمانڈ پوری کرنے کیلئے 83 ارب روپے درکارہیں۔