نائن الیون — دنیا کی تاریخ بدل دینے والی تاریخ

لاہور: (کوہ نور نیوز)11 ستمبر 2001 وہ تاریخ ہے جب دہشت گردوں نے امریکی ترقی کی نشانی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو حملوں کے لیے منتخب کیا اور نیویارک کے ماتھے کا جھومر ورلڈ ٹریڈ سینٹر لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گیا، لیکن اس کے ساتھ ہی دنیا کی تاریخ بھی بدل گئی۔ نائن الیون کے واقعے کو 17 برس بیت چکے ہیں، لیکن اس حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کی آگ ابھی تک بجھ نہ سکی۔ اس دن امریکی ایئرلائن کے 2 مسافر طیارے 18 منٹ کے وقفے سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دونوں عمارتوں سے ٹکرائے تھے، ان واقعات میں 3 ہزار کے قریب افراد جان سے گئے۔ اس حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی اُس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا عندیہ دیا، جس کا آغاز 7 اکتوبر کو افغانستان میں 'آپریشن اینڈیورنگ فریڈم' کے نام سے کیا گیا۔ امریکی جنگ کا خمیازہ پاکستان کو بھی بھتگنا پڑا! نائن الیون حملوں کے بعد دنیا بھر میں پاکستان امریکا کا سب سے اہم اور دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی بن کر سامنے آیا۔ سابق صدر پرویز مشرف نے جہاں افغان طالبان کے خلاف امریکی و نیٹو سپلائی کے لیے پاکستانی سرحدیں کھول دیں، وہیں قوم کو بتائے بغیر کئی پاکستانی ہوائی اڈے اور دیگر عسکری سہولیات بھی امریکا کو دے دیں۔ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کے ہوائی اڈوں اور ایئر اسٹرپس سے نہ صرف لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کے ذریعے براہ راست افغان طالبان پر حملے ہوتے رہے بلکہ انہی سہولیات سے پاکستان میں بھی جاسوسی کی جاتی رہی۔ ڈومور! اتنا کچھ فراہم کیے جانے کے بعد بھی کبھی پاکستان سے 'ڈو مور' کا مطالبہ کیا جاتا رہا تو کبھی کولیشن سپورٹ فنڈ روک کر پاکستان کو بلیک میل کیا جاتا رہا۔ حتیٰ کہ پاکستان پر کبھی طالبان کی حمایت تو کبھی کولیشن سپورٹ فنڈ کے غلط استعمال کے الزامات بھی لگے۔ غیر متزلزل حمایت کا عہد کرنے اور نبھانے والے پرویز مشرف کے ساتھ امریکا کا رشتہ ہمیشہ ساس بہو والا رہا جو پیپلز پارٹی اور پھر مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں بھی جاری رہا۔ پاک امریکا تعلقات میں بڑی دراڑ امریکی سی آئی اے اہلکاروں کی دھڑا دھڑ آمد سے پڑنا شروع ہوئی اور بد اعتمادیاں بڑھنے لگیں۔ سی آئی اے کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں لاہور میں 2 افراد کے قتل، القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے انسداد پولیو مہم کی آڑ میں جاسوسی اور پھر ایبٹ آباد آپریشن، سلالہ پوسٹ پر نیٹو کے ہاتھوں 24 پاکستانی فوجیوں کی شہادت اور پھر نیٹو سپلائی کی بندش سے پاک امریکا تعلقات خراب تر ہوتے چلے گئے ۔ گزشتہ کئی سال سے جہاں امریکا پاکستان پر دہشت گردوں خصوصاً حقانی نیٹ ورک کو محفوظ پناہ گاہیں دینے کا الزام لگا رہا ہے وہیں اب اپنی 17 سالہ افغان جنگ کی ناکامی کا ذمہ دار بھی پاکستان کو ٹھہرانے اور اسے دھمکانے کی کوشش کر رہا ہے۔ رواں برس کے آغاز میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہوئے جب یکم جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالر امداد دے کر حماقت کی جبکہ بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا۔ بعدازاں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھی پاکستان کی سیکیورٹی معاونت معطل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا گیا۔تاہم پاکستان نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، لیکن امریکا اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے حال ہی پاکستان کا دورہ بھی کیا، جس کے دوران امریکا کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے قیامِ امن میں پاکستان اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ مائیک پومپیو نے پاکستانی حکام کو یہ پیغام بھی پہنچایا کہ پاکستان کو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گردوں اور جنگجوؤں کے خلاف مستقل اور فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ ٹاورز کے مقام پر تعمیر کی گئی یادگار گراؤنڈ زیرو اور میوزیم ہر سال امریکیوں کو اس سانحے کی یاد دلاتا رہے گا، جس نے نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اس آگ میں دھکیل دیا جو نہ جانے کب بجھے گی۔