موبائل کا استعمال

لاہور: (کوہ نور نیوز، ویب ڈیسک) آج کے دور میں موبائل فون ہر شخص کی ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہی میں نہیں ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں بھی یہ عام لوگوں کی پہنچ میں آ گیا ہے۔ ہر چلتے پھرتے شخص کے پاس موبائل فون ہے اور وہ کسی نہ کسی سے بات کرتا نظر آتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ اس کے استعمال کے متعلق کچھ بنیادی عملی، اخلاقی اور تکنیکی باتوں کے بارے میں گفتگو کر لی جائے۔ یاد رہے کہ موبائل فون ایک سہولت ہے، اس لیے اس کا استعمال سہولت کے طور پر کیا جائے۔ بلاوجہ محض وقت اور پیسے کو ضائع نہ کیا جائے یعنی ضرورت کے وقت ہی فون کیا جائے اور صرف بات کر کے فون بند کر دیا جائے۔ بعض مقامات پر موبائل فون کا استعمال غیر اخلاقی اور بعض صورتوں میں غیر قانونی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ مثال کے طور پر مکتب اور تعلیمی ادارے میں دوران تعلیم اس کا استعمال کسی طور پر بھی مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح موٹر سائیکل یا گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون کرنا یا سننا اپنے اور دوسرے کے لیے خطرناک ہے۔ اسی لیے قانونی طور پر اس پر پابندی ہے۔ کسی مجلس یا محفل میں بیٹھے ہوئے موبائل فون استعمال کرنا بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا تاہم ایسے کسی موقع پر کوئی ضروری بات کرنی یا سننی پڑ جائے تو مناسب ہے کہ خاموشی سے ایسے مقام سے ذرا دور ہٹ کر فون کا استعمال کر لیا جائے۔ غلطی سے کوئی نامعلوم کال آ جائے تو مناسب الفاظ میں اس سے معذرت کر لی جائے۔ اسی طرح اگر آپ سے غلط نمبر مل جائے تو بھی معذرت کرنی ضروری ہوتی ہے۔ اگر آپ کا مطلوبہ نمبر متعلقہ شخص کی بجائے گھر کے کسی دوسرے فرد نے اٹھا لیا تو اسے اپنا مختصر تعارف اور پیغام ضرور بتا دیں تا کہ متعلقہ شخص کسی پریشانی کا شکار نہ ہو۔ مسجد میں نماز پڑھتے وقت موبائل فون بند رکھنا چاہیے تا کہ عبادت میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ کوشش کریں کہ آپ کے موبائل کی اطلاعی گھنٹی کسی کے لیے تکلیف کا باعث نہ بنے۔ اس لیے اس کی آواز کم اور انداز سادہ ہو تو بہتر ہے۔ بعض لوگ اپنے سیٹ میں گھنٹی کی بجائے اسے تھرتھراہٹ پر یا ہلکی سی بیپ کے بعد تھرتھراہٹ پر بھی لگا دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں آپ کو آنے والے فون سے کسی کو زیادہ زحمت نہیں ہوتی یا قریبی افراد کو بری نہیں لگتی۔ یہ ایک اچھی صورت ہے۔ آج موبائل فون کے بہت سے استعمال سامنے آ گئے ہیں یعنی موبائل فون میں گھڑی، ریڈیو، ٹی وی، کیمرہ، سٹاپ واچ، فون ڈائری، کیلنڈر، انٹرنیٹ، گیمز، لغت اور معلومات کے علاوہ تفریح کے بہت سے نئے انداز بھی آ گئے ہیں۔ نیز اپنی اپنی پسند اور ذوق کے مطابق اطلاعی گھنٹی کے انداز اور ریکارڈنگ بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ ان تمام سہولتوں اور آسائشوں کے ساتھ ساتھ موبائل فون کا سائز بھی سکڑ رہا ہے۔ موبائل چاہے جتنا جدید ہو، اس کا بنیادی استعمال کہیں سے آنے والی فون کال کو سننا اور کسی کو فون کرنا ہے۔ موبائل فون ایک ایسی مفید و کارآمد ایجاد ہے جسے روز بروز مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ امیر تو ایک طرف رہے، متوسط اور کم حیثیت لوگ بھی اسے ایک اہم ضرورت سمجھتے ہیں۔ مغربی ممالک میں تو کافی عرصے سے موبائل کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ اس سے منسلک سہولیات و خدمات دن بدن ترقی کر رہی ہیں۔ اب موبائل فون میں ویڈیو فلمیں اور دستاویزی فلمیں بھی بن رہی ہیں۔ دینی اور مذہبی ذوق رکھنے والے حضرات اپنے موبائلز پر تلاوت سن سکتے ہیں، احادیث اور تفسیر پڑھ سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا تک اب کمپیوٹر کی بجائے موبائل فون پر رسائی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ موبائل فون قومی اتحاد کو بڑھانے، مختلف علاقوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور انہیں مشترکہ قومی مقاصد سے وابستہ کرنے میں بے پناہ مدد گار ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں موبائل کے ذریعے سے مختلف ممالک کے لوگوں میں روز بروز ذہنی قربت اور اکٹھے ہونے کا احساس بڑھ رہا ہے۔ اس سے بین الاقوامی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ کاروباری معاملات کے لیے اس کا استعمال بہت مفید ثابت ہوا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ موبائل فون ایک مفید اور کارآمد ایجاد ہے۔ یہ بذات خود برا نہیں، اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی اصلاح کی جائے۔ اسے اچھے کاموں اور اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ لوگ صحیح معنوں میں اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔