پیرو میں حکومت مخالف احتجاج شدت اختیار کرگیا

لیما : (ویب ڈیسک) پیرو میں قبل از وقت انتخابات اور سابق صدر کی رہائی کے لئے حکومت مخالف احتجاج میں ایک بار پھر شدت آگئی ہے ۔ خبررساں ادارے کے مطابق پیرو میں حکومت مخالف احتجاج ایک بار پھر سے شروع ہوگیا ، دارالحکومت لیما سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرین صدر دینا بولوارتے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ خبر رساں ادارے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مظا ہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے اور ربڑ کی گولیاں اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی ،جس کے بعد مظا ہرین کی جانب سے سرکاری املاک کو نقصا ن پہنچایا گیا ۔ اس حوالے سے صدر ڈینا بولوارتے نے اپنے بیان میں کہا کہ سڑکوں کی ناکہ بندی اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں نے ملک کو تباہ کر رکھا ہے ، پیرو میں مظاہرین اور پولیس جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے زیادہ ہو گئی ہے اور 1,300 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ 11 دسمبر سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں 40 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 700 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں ۔