بِٹ کوائن مائیننگ ہر سال آسٹریا سے زیادہ توانائی استعمال کرتی ہے، تحقیق

نیو میکسیکو:(کوہ نورنیوز) بِٹ کوائن دنیا کی سب سے مقبول کرپٹو کرنسی ہے لیکن نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات کو ممکنہ طور پر وقعت نہیں دی جارہی ہے۔ نئی تحقیق میں امریکی محققین نے گزشتہ پانچ سالوں میں انسانی سرگرمیوں، بشمول بٹ کوائن کی مائیننگ، کے سبب موسم کو پہنچنے والے توانائی سے متعلقہ نقصانات پیش کیے۔ بِٹ کوائن مائیننگ ایک ایسا عمل ہے جس میں کمپیوٹیشنل پرابلمز حل کرکے نئے بِٹ کوائنز بنائے جاتے ہیں۔ اس عمل میں بھاری مقدار میں توانائی استعمال ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بِٹ کوائن کی مائیننگ ہر سال یورپی ملک آسٹریا میں استعمال ہونے والی توانائی سے زیادہ توانائی استعمال کرتی ہے اور یہ ماحولیاتی اعتبار سے گائے کے گوشت کی پیداوار یا سونے اور تانبے جیسی قیمتی دھاتوں کی کان کنی سے زیادہ مہنگی پڑتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بِٹ کوائن کو ڈیجیٹل سونا سمجھنے کے بجائے اس کا موازنہ بھاری مقدار میں توانائی استعمال کرنے والی اشیاء سے کرنا چاہیئے۔ سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہونے والی یہ تحقیق امریکا کی یونیورسٹی آف نیو میکسیکو کے محققین کی رہنمائی میں کی گئی۔ تحقیق کے مصنف اور یونیورسٹی کے پروفیسر بینجامن اے جونز کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ بِٹ کوائن مائیننگ وقت کےساتھ مزید پائیدار ہورہی ہے۔اس کےبجائے ہمیں حاصل ہونے والے نتائج میں اس کے اُلٹ بات سامنے آئی کہ بِٹ کوائن مائیننگ وقت کے ساتھ مزید گندی اور موسم کے لیے نقصان دہ ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختصر یہ کہ بِٹ کوائن کے ماحولیاتی نقشِ پا غلط سمت کی جانب گامزن ہیں۔