ناسا نے آرٹیمس 1 مشن کو چاند پر بھیجنے کیلئے اہم ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کرلیا

نیویارک: (کوہ نورنیوز،ویب ڈیسک) ناسا کی جانب سے آرٹیمس 1 مشن کو چاند پر بھیجنے کی تیسری کوشش ستمبر کے آخر میں کیے جانے کا امکان ہے۔ اس مشن کو پہلے 29 اگست اور پھر 3 ستمبر کو روانہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا مگر تکنیکی مسائل کے باعث ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ یہی وجہ ہے کہ ناسا نے مسائل کی روک تھام کے لیے ایندھن بھرنے کے زیادہ بہتر طریقہ کار کی آزمائش آرٹیمس 1 کے اسپیس لانچ سسٹم راکٹ میں کی ہے۔ ماہرین کی ٹیم نے میگا راکٹ کے ٹینک کو بھرنے کے طریقہ کار کو تبدیل کیا تاکہ اس کا درجہ حرارت اور دباؤ تیزی سے نہ بڑھے جو ممکنہ طور پر ایندھن لیک ہونے کا باعث بن رہا تھا۔ اس ٹیسٹ کے دوران بھی ایک ہائیڈروجن ٹینک سے ایندھن لیک ہوا مگر اس کو بروقت ٹھیک بھی کرلیا گیا۔ ماہرین کو توقع ہے کہ اس کامیابی سے مشن کے لانچ سے قبل کسی خرابی کو بروقت درست کرنے میں مدد ملے گی۔ اس ٹیسٹ کی کامیابی کے بعد ناسا کی جانب سے آرٹیمس 1 کو بھیجنے کے لیے تیسری کوشش 27 ستمبر کو کیے جانے کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ اس مشن کے لیے اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) میگا راکٹ استعمال کیا جارہا ہے جو کہ ناسا کا اب تک کا طاقتور ترین راکٹ ہے جس کے ساتھ اورین اسپیس کرافٹ موجود ہے۔ یہ ناسا کے 5 دہائیوں بعد چاند پر واپس لوٹنے کے آرٹیمس پروگرام کا پہلا مشن ہے جو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوگا۔ اس مشن میں کوئی انسان موجود نہیں اور یہ بنیادی طور پر مستقبل کے مشنز کے لیے ٹیسٹ فلائٹ ہے۔ اس پرواز میں کوئی انسان تو موجود نہیں مگر انسانی قد و قامت کی ایک ڈمی ضرور اورنج فلائٹ سوٹ پہنے کمانڈر سیٹ پر بٹھائی جائے گی جس میں مختلف سنسرز نصب ہیں۔ اس 'کمانڈر' کا نام Moonikin Campos ہے جبکہ مزید 2 پتلے بھی اس مشن کا حصہ ہیں جن کو انسانی ٹشوز سے بنے میٹریل سے تیار کیا گیا ہے تاکہ خلائی ریڈی ایشن کے اثرات کا تجزیہ کیا جاسکے۔ لانچ کے ایک ہفتے بعد یہ مشن چاند کے مدار میں داخل ہوگا، جہاں وہ ایک ماہ تک رہے گا اور پھر زمین پر واپس پہنچے گا۔ آرٹیمس 1 کے بعد آرٹیمس 2 مشن میں انسانوں کو خلا میں بھیجا جائے گا اور ایسا 2024 میں متوقع ہے، البتہ یہ مشن چاند پر لینڈ نہیں کرے گا۔ آرٹیمس 3 وہ مشن ہوگا جس میں خلا بازوں کو 2025 میں چاند پر بھیجے جائے گا اور یہ وہاں کے قطب جنوبی پر لینڈ کرے گا۔ اس مشن کے لیے اسپیس ایکس کے اسٹار شپ لینڈر کو استعمال کیا جائے گا مگر مستقبل کے ان مشنز کا انحصار آرٹیمس 1 کے نتائج پر ہوگا۔ آرٹیمس 1 مشن کی تجویز 2012 میں پیش کی گئی تھی اور پہلے اسے 2017 میں لانچ کیا جانا تھا، مگر یہ تاخیر کا شکار ہوتا گیا۔