لاہور ہائیکورٹ نے حلیم عادل شیخ کی گرفتاری غیرقانونی قرار دیدی

لاہور: (کوہ نورنیوز) لاہور ہائیکورٹ نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی گرفتاری غیر قانونی دیدی۔ گرفتاری غیر قانونی قرار دیئے جانے کا حکم جسٹس علی بابر نجفی نے دیا اور لاہور ہائیکورٹ نے فوری طور پر رہائی کا حکم دیا اسی دوران پی ٹی آئی رہنما کی 18جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے فیصلہ میں کہا کہ حلیم شیخ کی گرفتاری سے متعلق عدالت میں کوئی لیٹر پیش نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل حلیم عادل شیخ کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں سرکاری وکیل نے کیس کے کاغذات عدالت میں پیش کر دیئے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کوئی ایسا کاغذ ہے جس سے پتہ چلے کہ یہ تفتیشی ٹیم ہے جو گرفتار کرنے آئی ہے، مجھے کوئی ڈاکومنٹ نظر نہیں آ رہا۔ جسٹس علی باقر نجفی نے حلیم عادل شیخ سے استفسار کیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں، جس کے جواب میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ یہ کل شام مجھے پکڑ کر پہلے گلبرگ تھانے اور پھر سی آئی اے لے گئے۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں اسمبلی میں آواز اٹھاتا ہوں، میں ہر تفتیش جوائن کرنے کو تیار ہوں۔ عدالت نے حلیم عادل شیخ سے استفسار کیا کہ آپ سندھ کب جانا چاہتے ہیں، جس کے جواب میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ میں تو بچوں کے ساتھ عید کرنا چاہتا ہوں۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ اس طرح تو نہیں ہونا چاہیے، مجھے فائل دے دیں میں کچھ دیر بعد فیصلہ سناؤں گا۔ اس سے قبل دوران سماعت جسٹس علی باقر نجفی نے سب انسپکٹر اینٹی کرپشن سے پوچھا کہ کس قانون کی بنیاد پر گرفتاری کی گئی ہے، گرفتاری تو تفتیشی افسر کرتا ہے جو یہاں نہیں ہے۔ سب انسپکٹر اینٹی کرپشن کا کہنا تھا کہ ملزم ہماری تحویل میں ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ آپ نے گرفتاری کب ڈالی ہے، جس کے جواب میں سب انسپکٹر نے کہا کہ ہم نے سوا 12 بجے گرفتار کیا ہے، ہم نے راہداری ریمانڈ کے لیے مجسٹریٹ سے رجوع کیا، مجسٹریٹ نے ہائی کورٹ کی پٹیشن کی وجہ سےالتوا میں رکھا ہے۔ واضح رہے کہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ کو لاہور کے ہوٹل سے گزشتہ رات گرفتار کیا گیا تھا۔ حلیم عادل شیخ کو اینٹی کرپشن سندھ نے سرکاری زمین کے جھوٹے کاغذات بنانے کے الزام میں گرفتار کیا۔