دو سو ملین سے زائد مسلمان، عیسائی، سکھ اور دیگر اقلیتوں کو ہندوستان میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے: صائمہ سلیم

نیویارک: (کوہ نورنیوز) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ ہندوستان کا دہشت گردی سے متعلق بیان محض اپنی ریاستی دہشت گردی کو روکنے کی کوشش ہے، دو سو ملین سے زائد مسلمان، عیسائی، سکھ اور دیگر اقلیتوں کو ہندوستان میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب صائمہ سلیم نے ہندوستانی مندوب کے بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ واضح ہے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی رہا ہے، سیکیورٹی کونسل کی متعدد قراردادوں نے جموں کشمیر کو متنازع قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 47 میں واضح ہے، ہندوستان فیصلے پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 25 کے مطابق عمل کرنے کا پابند ہے، بھارت نے غیر قانونی طور پر جموں و کشمیر کی ریاست پر قبضہ کیا ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتا رہتا ہے، جموں و کشمیر کے عوام نے اپنے حق خودارادیت کا استعمال نہیں کیا حالانکہ حق خود ارادیت دینے کا وعدہ پوری دنیا کے لوگوں سے کیا گیا۔ اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے صائمہ سلیم نے کہا کہ ہندوستان مسلم اکثریتی ریاست کو ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے پر تلا ہوا ہے، ہندوستان کے اقدامات بین الاقوامی چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستانی مندوب صائمہ سلیم نے کہا کہ اس تنازعے کے باعث آج مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک سنگین انسانی بحران ہے۔