آکاس بیل کے پودے سے زخم بھرنے والی گوند کی تیاری میں پیشرفت

مانٹریال: (کوہ نورنیوز،ویب ڈیسک) آکاس بیل کی نسل کے پودے پر گوند بردار بیریوں میں موجود گوند کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ ان سے زخموں کو مندمل کرنے والا قدرتی مرہم بنایا جاسکتا ہے۔ اس پودے کو مسلٹو کہا جاتا ہے جو درختوں پر بطور طفیلیہ (پیراسائٹ) پیدا ہوتے ہیں اور اس چھوٹے سفید بیر اگتے ہیں۔ اس کے پھول کرسمس آرائش پر بھی کام آتے ہیں لیکن بیریوں میں موجود خاص گوند ’وِسکِن‘ کے نئے خواص دریافت ہوئے ہیں۔ جب پرندے یہ بیریاں کھاتے ہیں تو ان کے جسم پر بیج چپک جاتے ہیں جو مشکل سے ہی ہٹتے ہیں۔ اب مِک گِل یونیورسٹٰی کے پروفیسر میتھیو ہیرنگٹن نے جرمن ماہرین کے تعاون سے اس پر غور کیا تو اس میں باریک سہ ابعادی (تھری ڈائمینشنل) ساخت دکھائی دی۔ ماہرین نے اس کے ریشوں کو دھات، شیشے اور پلاسٹک پر لگایا تو وہ مضبوطی سے چپکے۔ پھرانکشاف ہوا کہ اگر اس گوند میں تھوڑٰی نمی بڑھائی جائے تو یہ پھیل جاتا ہے اور کمزورہوکر چپکنے کی صلاحیت کھودیتا ہے۔ ایک جانب تو اس کے چپکنے کی صلاحیت سامنے آئی تو دوسری جانب اس سے چھٹکارا پانے کا طریقہ بھی معلوم ہوا تو دوسری جانب یہ ہرطرح سے حیاتیاتی طور پر موزوں (بایو کمپیٹیبل) بھی ہے۔ اگلے مرحلے میں مسلٹو بیریوں کی گوند کو کچھ بدل کر جانوروں کے زخموں پر آزمایا گیا اور اس کی پتلی پرت کسی پٹی کی طرح زخم کے دونوں کناروں سے جڑگئی جس کے بہترین نتائج سامنے آئے ہیں۔ اگلے مرحلے میں اس پر مزید تحقیق کرکے اسے انسانوں پر آزمایا جائے گا۔