عمران خان جو انقلاب عدالت کے ذریعے لانا چاہتے ہو، ناکام بنائیں گے: مریم نواز

بہاولپور: (کوہ نورنیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ملک کو بیرونی خطرہ نہیں بلکہ اندرونی انتشار اور فتنے کا خطرہ ہے اور سب سے بڑا فتنہ عمران خان ہے۔ پی ٹی آئی چیئر مین جو انقلاب تم بذریعہ سپریم کورٹ لانا چاہتے ہو عوام اس انقلاب کوبھی ناکام بنائیں گے، عدالت عظمیٰ فتنہ باز سے دور رہے اورخود کو غیر جانبدار رہنا ہو گا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ عوام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتی ہوں، اتنی شدید گرمی میں جلسے میں شرکت پر شکریہ ادا کرتی ہوں، نوازشریف نے دباو کے باوجود بھارت کے مقابلے میں6ایٹمی دھماکے کیے، کون ہے وہ لیڈر جس نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے لیڈر کا نام نوازشریف ہے، پاکستان اپنی حفاظت کرنا جانتا ہے، کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ بھی نہیں سکتا، نواز شریف نے 5 ارب ڈالر کی امداد ٹھکرا کر پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیا۔ یہ ہوتی ہے خودداری، یہ ہوتی ہے آزادی، نوازشریف نے ملک کواتنی بڑی طاقت بنادیا، اس کے بعد کارگل ہوا،ن لیگی قائد نے صرف ایٹمی دھماکے نہیں جے ایف تھنڈرکے طیارے بھی دیئے، ملک سے یہ محبت کرنے والا کر سکتا ہے، نوازشریف نے ملک کوموٹرویز، کارخانے دیئے۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف، ذوالفقار علی بھٹو، افواج پاکستان، سائنسدانوں سمیت سب کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں، پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے سے منع کیا گیا، کہا گیا ایٹمی دھماکے کئے تو تمہیں پتھر کے زمانے میں دھکیل دیں گے، نواز شریف نے کہا جو کرنا ہے کر لو میں ایٹمی دھماکے کر کے دم لوں گا، میرے قائد نے تو کوئی خط نہیں لہرایا، کسی سازش کا ڈرامہ نہیں کیا، ایٹمی دھماکوں کے بعد کسی کی جرات نہیں ہوئی کہ میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔ ملکی سرحدوں کو اس طرح محفوظ صرف اپنے وطن کی مٹی سے محبت کرنے والا کر سکتا ہے، نواز شریف نے اس ملک سے لوڈشیڈنگ کے اندھیرے دور کئے۔ لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے دن رات ملک کی خدمت کی، فتنہ خان تم سے پوچھتی ہے تم نے قوم کوکیا دیا؟، تم نے گالیوں، غربت، افلاس، مہنگائی کے سوا کچھ نہیں دیا، فتنہ خان چیلنج کرتی ہوں اپنا ایک کارنامہ بتادو۔ آج پاکستان کو کوئی بیرونی سکیورٹی کا کوئی خدشہ نہیں، آج پاکستان کو اندرونی انتشار، فتنہ سے ہے، انتشار اور فتنہ کا دوسرا نام کیا ہے؟ پاکستان میں سب سے بڑے فتنہ اورانتشارکا نام عمران خان ہے، پاکستان کوکسی دشمن سے نہیں فساد اورفتنہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا لانگ مارچ بھی بُری طرح فیل ہوگیا ہے، نمبربدل گیا ہے تو آج سپریم کورٹ میں خط لیکرچلا گیا ہے۔ یاد ہے ناں 2014ء کے دھرنے، اقتدارکے لالچی کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی تھی، اس کا 2014ء کا بھی لانگ مارچ ناکام ہوا تھا، اس کے منہ سے نکل گیا، جسٹس کھوسہ نے کہا ہمارے پاس آؤ فیصلہ کرتے ہیں۔ کیا اب عدالتوں کا یہ کام رہ گیا جہاں عمران فیل ہوا س کی مدد کو آئیں، عمران خان جوانقلاب تم بذریعہ سپریم کورٹ لانا چاہتے ہو عوام اس انقلاب کوبھی ناکام بنائیں گے، سپریم کورٹ فتنہ باز سے دور رہے، سپریم کورٹ کو غیرجانبداررہنا ہوگا، کیاعدالتوں کایہی کام رہ گیاجہاں عمران خان فیل ہواس کی مددکوآئیں؟ مریم نواز نے کہا کہ بندے لانے کی تمہاری تیاری نہیں تھی لیکن پولیس کو سیدھی گولیاں مارنے کی پوری تیاری تھی۔ اب کہتا ہے تیاری کے بغیر نہیں آنا چاہیے، جانوروں کے بھی حقوق ہوتے ہیں تم نے 22 کروڑعوام کو بھی جانوروں سے کم سمجھ لیا، عمران خان کارکنوں کے گھر گیا اور دوسروں کی نقل کر کے گود میں لیے، کارکنوں کے بچے پوچھتے ہوں گے تمہارے بچے ٹھنڈی جگہ رہتے ہیں، اگریہ حقیقی آزادی، جہاد کا سفرہے تو اپنے بیٹے قاسم، سلیمان کو لندن کیوں بٹھایا ہوا ہے؟ قوم کے بچے سڑکوں پر لو کے تھپڑے کھا رہے ہیں، پہلے تمہارے بچے برٹش پاسپورٹ کو آگ لگائیں اور پھر آزادی مارچ کو لیڈ کریں۔ لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ فتنہ خان شہید کانسٹیبل کمال احمد کے گھر بھی جاؤ، کانسٹیبل کوگولی مار کر شہید کر دیا گیا، شہید کے 5 بچوں کو دیکھ کر دل خون کے آنسو رویا، فتنہ خان کو اقتدارسے باہر رہنے کی عادت نہیں، یہ سیاست چمکا کر واپس وزیراعظم ہاؤس جانا چاہتا ہے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، اس نے اپنے کارکنوں کو گندی زبان سکھا دی ہے، اس کی پیروکار خاتون نے پولیس اہلکار کو گندی گالیاں دیں، کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے، کبھی بسم اللہ، کبھی ایاک نعبدو پڑھ کر جھوٹ کے انبار لگا دیتا ہے، قاسم سوری کہتا ہے خان صاحب تھوڑا سا اسلامی ٹچ دیدیں، جو انسان اپنی سیاست کے لیے مذہب استعمال کرے اس سے زیادہ کوئی خطرناک نہیں، اسے صلح حدیبیہ نہیں کہنا آتا، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کا وعدہ کیا تھا، قیمتیں بڑھا کر دل خون کے آنسو رویا، ایک روپیہ بھی جب بڑھتا ہے تو نوازشریف، شہبازشریف، مریم کا دل روتا ہے، یہ تو کہتا تھا آلو، پیازکے ریٹ بتانے نہیں آیا، ہاں! نوازشریف، شہبازشریف آلو کے ریٹ پتا کرنے آئے ہیں، کل بڑے شوق سے شہبازشریف کا خطاب سنا تھا، وزیراعظم کے خطاب میں مذہب، غداری کارڈ نہیں تھا، شہبازشریف نے کل 28 ارب پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پیکج دیا، تم تو چارسال کی کارکردگی کا حساب نہیں دے سکتے، شہباز شریف کی 5 ہفتے کی کارکردگی آٹا کی قیمت 40 روپے کم کر دی، شہباز شریف چینی اور کھاد کی قیمت نیچے لے آیا، یہ صرف 5 ہفتے کی کارکردگی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے افواج پاکستان کے ساتھ ملکر ضرب عضب لڑی تھی، آج (ن) لیگ اور اتحادیوں کی حکومت کے لیے سپورٹ مانگنے آئی ہوں، شہبازشریف دن رات محنت سے بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے، لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ٹی وی پر دیکھا عمران خان عدم اعتماد کے دوران اپنے ایک دوست سے منتیں کر رہا تھا، جلسوں میں فتنہ خان کہتا ہے زرداری کو بندوق کی نشست پر رکھا ہوا تھا، اگر بقول تمہارے سازش ہوئی تھی تو انہی سازشیوں سے چپکے، چپکے کیوں منتیں کرتے تھے، جوانقلاب ہوتے ہیں وہ پولیس کے ڈر سے گھروں میں نہیں بیٹھ جاتے، اس نے25 لاکھ لوگوں کو لانے کی بات کی تھی، پورے پاکستان سے 25 ہزاربندہ بھی نہیں نکلا، تیاری نہ ہونے کا جھوٹ بولتے ہو، خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری وسائل استعمال کیے۔ مجھے خوشی ہے آپ نے فتنہ، فساد کو جہاں سے نکلا وہیں واپس بھیج دیا، خیبرپختونخوا کی عوام نے بھی فتنہ، فساد کو مسترد کر دیا، پنجابیوں نے بدلہ لے لیا، انٹیلی ایجنس رپورٹ کے مطابق پنجاب کے کسی شہر سے 200 سے زائد بندے اکٹھے نہیں کرسکا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے حکومت سے نکلا اچانک مہنگائی، ڈالرکی قیمت بھی یاد آگئی ہے، چار سال بعد نیند سے اٹھا ہے، کہتا ہے روس سے سستا معاہدہ ہونے جا رہا تھا تو معاہدہ ہوا کیوں نہیں؟ جب پٹرول کی قیمتیں بڑھاتے تھے تب معاہدہ کیوں نہیں ہواَ؟ عمران خان نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا جھوٹا وعدہ کیا تھا، نوازشریف نے آتے ہی بہاولپورسے گورنر کا انتخاب کیا۔ بلیغ الرحمان بہاولپور کا بیٹا ہے، جنوبی پنجاب کو چمکتا، دمکتا بنائیں گے، اگر اس ملک کی خاطر مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے تو نوازشریف کا ساتھ دوگے؟ اگر اسی طرح ساتھ دو گے تو وعدہ کرتی ہوں نوازشریف، شہبازشریف چند ماہ میں ملک کو مشکلات سے نکال لیں گے۔