شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی ضمانت میں 4 جون تک توسیع

لاہور: (ویب ڈیسک) وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 4 جون تک توسیع کر دی گئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور میں منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے دلائل دیئے گئے۔ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ استغاثہ یہ کہتا ہے اکاؤنٹ سلمان شہباز کی ٹرانزیکشن کے لیے کھولا گیا اور کوئی پیسے بھی آتے ہیں تو ہر طرح سے اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ فارم میں کہیں نہیں لکھا کہ اکاؤنٹ شہباز شریف کے لیے کھولا جا رہا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا چالان میں چودھری شوگر مل کا ذکر ہے ؟ جس پر وکیل امجد پرویز نے کہا کہ چالان میں رمضان شوگر مل اور العریبیہ شوگر مل کا ذکر ہے جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے چالان میں کہانیاں لکھی گئی ہیں اور چالان میں کوئی شواہد نہیں لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے کئی لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔ ملزم بنایا گیا نہ گواہ اور مقصود چپڑاسی کے بیان دیکھیں تو ان کے تمام چیکس پر سیلف لکھا گیا ہے۔ اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور میں ملزمان کے اوپننگ اکاؤنٹ فارم پیش کیے گئے اور کیشیئر رمضان کا اکاؤنٹ اوپننگ فارم بھی پیش کیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پرسنل ڈیٹا فارم پر کراس لگا ہوا ہے۔ وکیل امجد پرویز نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد مقصود پر الزام ہے کہ اس نے 3 ارب 40 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کی اور محمد مقصود کا تنخواہ کے علاوہ جو بھی اکاؤنٹ کھلا وہ رمضان شوگر مل کے لیٹر پیڈ پر نہیں تھا۔ محمد مقصود کے اکاؤنٹ میں 98 فیصد ٹرانزیکشن کیش نہیں بلکہ ٹرانسفر اینٹریز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محمد مقصود کے اکاؤنٹ سے کبھی شہباز شریف کو پیسے نہیں گئے اور ریکارڈز کے مطابق محمد مقصود اپنی ریٹررنز جمع کراتا تھا۔ اگر مان لیں کہ مقصود بے نامی تھا تو یہ دیکھنا ہے کہ وہ کس قانون کے تحت مجرم ہے کیونکہ وہ پبلک آفس ہولڈر نہیں تھا اور کیس کو جس انداز سے دیکھ لیں، شہباز شریف سے کوئی بھی تعلق بنتا ہو تو چلا جاؤں گا۔ تفتیشی نے سارا کیس کمرے میں بیٹھ کر بنایا۔ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نےعبوری ضمانت کی توثیق پر دلائل مکمل کر لیے جس کے بعد اسپیشل سینٹرل عدالت لاہور نے حمزہ شہباز کے وکیل کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی ہدایت کی۔