عمران خان زندہ لاش ہے، کرسی کی خاطر ملک میں آگ لگانا چاہتا ہے: مریم نواز

لاہور: (کوہ نورنیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اسٹیبشلمنٹ آئین وقانون کے دائرے میں اگرکام کرے گی تو بہترین فیصلہ ہے، اداروں کو ادب سے درخواست کر رہی ہوں جو سب سے زیادہ ڈرائے اور گالی نکالے اسی کے حق میں فیصلہ نہ کرے، فتنہ کو فیڈ نہیں کرنا چاہیے، عدلیہ بھی اس فتنے کو ایسے ڈیل کرے جیسے قرآن نے حکم دیا۔ جیسے یہ لانگ مارچ سے فارغ ہو گا تو ان کیسز پر توجہ دیں گے، اس کی ساری چوریاں سامنے لائیں گے۔ ن لیگی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ یاسین ملک کوعمرقید کی سزا پرشدید مذمت کرتی ہوں، آزادی کے جذبے کو عمر قید نہ پھانسی چڑھائی جاسکتی ہے، یاسین ملک کوعمرقید کی اتنی بڑی خبرہے، آج پوری قوم کی توجہ یاسین ملک کے حوالے سے ہونی چاہیے تھی، ان کی اہلیہ نے رو کر عمران خان سے درخواست کی تھی، آج پاکستان سے ایک آواز جو جانی تھی وہ ایک فیل لانگ مارچ کی نذر ہو گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کوفتنے کے آگے بندھ باندنے پرمبارکباد دیتی ہوں، کل کانسٹیبل شہید، آج پولیس کی وین کو جلانے سے شہادتیں ہوئیں، اللہ لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔ کل بھی کہا تھا عمران خان ایک زندہ لاش ہیں، وزیراعظم، حکومت سے درخواست کی تھی اسے نہ پکڑا جائے ایکسپوز ہو گا، جلسوں میں ایسے کہہ رہے تھے اگلا الیکشن جیت لیا جائے گا، آج پاکستان کی ماؤں، بہنوں، نوجوانوں نے زناٹے دارتھپڑرسید کیا، آج اپنی قوم کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں، قوم نے بروقت عمران خان فتنے کو روکا، قوم سمجھتی ہے کرسی کی خاطرملک میں آگ لگانا چاہتے ہیں، پاکستان کواس وقت استحکام اورترقی کی ضرورت ہے۔ اب ملک کے وزیراعظم شہبازشریف ہیں، آج اس فتنے کا کام تمام ہونے کے بعد ملک میں استحکام اور سازگار ماحول ہو گا، پنجاب کی عوام نے آج عثمان بزدارکے مسلط ہونے کا بدلہ لیا، پنجاب کی عوام کولوٹا گیا۔ مریم نواز نے کہا کہ شیرکے مینڈیٹ کی چوری کا بدلہ آج پنجاب کی عوام نے چکتا کیا، یہ 25لاکھ لوگوں کے لانے کی بات کر رہے تھے، پنجاب سے 200 بندے نہیں نکلے، یہ توکہتے تھے پاکستان کی عوام ان کے ساتھ کھڑے ہونگے۔ خیبرپختونخوا سے بھی ان کوانتہائی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، انقلاب خیبرپختونخوا اور پنجاب کے درمیان ملحق ہے، خیبرپختونخوا، بلوچستان،سندھ کی عوام کوبھی سلیوٹ کرتی ہوں، دو،تین دن پہلے یہ لانگ مارچ کا اعلان کرکے پھنس گئے تھے۔ لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ اسد قیصر، پرویزخٹک نے ایازصادق سے رابطہ کیا، ایازصادق نے نوازشریف سے رابطہ کیا اور بتایا کچھ دو اور کچھ لو کی بات کرتے ہیں، میرے والد نے کہا فتنہ باز، جتھے والوں کی دھمکی میں نہیں آؤں گا، انہوں نے کہا ہمیں لانگ مارچ سے بچا لیں، نوازشریف کے جواب کے بعد کل انہوں نے پھر رابطہ کیا، آج شاہ محمود، اسدعمر، پرویزخٹک نے صبح دس بجے سپیکرہاؤس میں ملاقات ہوئی، انہوں نے الیکشن اور جلسے کی جگہ کا کہا، انہوں نے کہا دھرنے کا اعلان کر چکے، سیف ایگزٹ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا تھا، سپریم کورٹ کا فیصلہ سر آنکھوں پر، یہ ان کی عزت بچانے کا پورا اہتمام تھا، ابھی سپریم کورٹ فیصلے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی احکامات کی دھجیاں اڑا دیں، انہوں نے سپریم کورٹ میں کہا وہ گراؤنڈ دیدیں جہاں 10 ہزار لوگ آ جائیں، حکومتی وکیل نے کہا وہ گراؤنڈ چھوٹی ہے ان کو پریڈ گراؤنڈ میں جگہ دیدی جائے، انہوں نے کہا نہیں چھوٹی گراؤنڈ ہی ٹھیک ہے۔ اداروں کو ادب سے درخواست کر رہی ہوں جو سب سے زیادہ ڈرائے اور گالی نکالے اسی کے حق میں فیصلہ نہ کرے، فتنہ کو فیڈ نہیں کرنا چاہیے، عدلیہ بھی اس فتنے کو ایسے ڈیل کرے جیسے قرآن نے حکم دیا، عمران خان کے خلاف ایل این جی 122 ارب کا بہت بڑا سکینڈل ہے، عمران خان نے چینی کارٹیل کو نوازا اور کمیشن کھائی، جیسے یہ لانگ مارچ سے فارغ ہو گا تو ان کیسز پر توجہ دیں گے، اس کی ساری چوریاں سامنے لائیں گے۔ مریم نواز نے کہا کہ ناکامی کی وجہ سے پولیس وین، درختوں کو آگ لگا دیں، عمران خان نے خط کے ذریعے آگ لگانے کی کوشش کی، آج عوام کی املاک کونقصان پہنچایا گیا، ہم تو پہلے ہی کہہ رہے تھے یہ فتنہ، فساد ہے روکا جائے، انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ پنجاب کے دوبچے کینٹینر اٹھاتے ہوئے پل سے نیچے گر گئے، مجھے بطور ماں خیال آیا، عمران خان کے بچے لندن میں محفوظ بیٹھے ہیں، عمران خان نے ماؤں کے جگر گوشوں کو مروادیا، یہ ہیلی کاپٹرپرچڑھ گیا اورلوگ گرمی میں مارکھاتے رہے، اگریہ جہاد ہے توپہلے اپنی اہلیہ، بچوں کولاؤ۔ لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کوآزادی کا بھاشن دیتے ہیں، اس تحریک میں لوگ باہرنہیں نکلیں گے، کُرسی جانے کی تکلیف کا عوام نے ایندھن بننے سے انکار کر دیا ہے، عمران خان کو تاریخی ناکامی، تاریخی شرمندگی ہوئی، عمران خان کی سیاسی لاش تعفن پھیلا رہی ہے، بنی گالہ لے جا کر اللہ، اللہ کریں، ابھی خبر آئی ہے عمران خان کارکنوں کو ڈی چوک جانے کا کہہ رہے ہیں، اسٹیبشلمنٹ نے اس کو انگلی پکڑ کر احسان دراحسان کیے اور کرسی پر بٹھایا، آج یہ احسان کرنے والوں کو گالیاں نکالتا ہے، ماجد خان، علیم خان سے لیکراس شخص کی یہی روش رہی، یہ شخص ہرقیمت پرفتنہ،فساد چاہتا ہے، اس کوپیغام دینا چاہتی ہوں عمران نے تمہارے منہ پر زناٹے دارطمانچہ مارا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرسی چھن جانے پرعمران خان کا ذہن ہل گیا ہے، پی ٹی آئی کے کارکنوں کا اگرنقصان ہوا تو ذمہ دارعمران خان ہیں، اسٹیبشلمنٹ آئین وقانون کے دائرے میں اگرکام کرے گی تو بہترین فیصلہ ہے، حکومت بنانے اور گرانے کا اختیارصرف عوام کو ہونا چاہیے، میری نظر میں حکومت کومدت پوری کرنی چاہیے،بالکل الیکشن کی حامی تھی، معیشت اس وقت نازک موڑ پر ہے، لوڈشیڈنگ نے پھر سر اُٹھا لیا ہے، حالات کو بہتر کرنے کے لیے کم سے کم دو سال کا وقت چاہیے ہوتا ہے، کسی کی دھونس، دھمکیوں کے ذریعے الیکشن نہیں کرائیں گے، ہمارے پاس بہت اہل ٹیم ہے، ملک کو بھنورسے نکال لیں گے، آزادی رائے پر کوئی قدغن نہیں، تحریک انصاف سیاسی نہیں ایک انتشاری جماعت ہے، اگر یہ میڈیا پرحملہ کریں گے تو ایک، ایک چیز کا حساب لیا جائے گا، جتنا بھی املاک کونقصان پہنچایا حساب لیں گے، جب انہوں نے دھمکی لگائی تو نوازشریف نے کہا اب اگرالیکشن ہونا بھی ہے تو نہیں ہوگا، نوازشریف نے کہا مشکل فیصلوں پرقوم کو اعتماد میں لیں، مسلم لیگ کی کارکردگی بتانے میں دوگھنٹے لگیں گے، یہ اپنی کارکردگی کیا بتائے گا؟ عمران نے صرف انتشارنہیں فوج کے ادارے میں بھی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی، ریٹائرڈ فوجیوں کی فیملیزکوبھی یہ سوچنا چاہیے، عمران خان ادارے کی لڑائی کرانا چاہتا ہے۔ مریم نے مزید کہا کہ نوازشریف تیاری کر رہے ہیں بہت جلد واپس آئیں گے، یہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی گئی ہے، سب فیصلے اتحادیوں کی مشاورت سے ہی ہوتے ہیں، مجھے یقین ہے شہبازشریف ن لیگ اوراتحادیوں کے لیےبھی کارکردگی کی وجہ سے نیک نامی کا باعث بنیں گے۔