سی پیک کی رفتار سست ہونے کا تاثر درست نہیں: ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: (کوہ نورنیوز) ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی رفتار سست ہونے کا تاثر درست نہیں، کورونا کے باوجود کام جاری ہے۔ ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ دنیا بھر مین کشمیریون نے بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا، بھارت سات دہائیوں سے کشمیر میں انسانیت پرمظالم ڈھا رہا ہے، اور عالمی قوانین کو توڑ رہا ہے، دنیا کشمیر کی صورتحال سے آگاہ ہے، بھارتی فورسز کے مظالم دنیا کی آنکھوں سے اوجھل نہیں، بھارتی سوچ اور اقدام خطے کے امن کیلئے خطرناک ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی کے حالات نہیں، بھارت کو اس حوالے سے حالات سازگار حالات پیدا کرنا ہوں گے، پاکستان نے بھارت سے امن کی بہت کوششیں کیں لیکن بدقسمتی سے بھارت نے دوستی اور بات چیت کا مثبت جواب نہیں دیا، بھارت کو واہگہ کے ذریعے افغانستان میں گندم بھیجنے کی اجازت دی، لیکن اس نے ابھی تک نہ تاریخ کا بتایا نہ ہی ٹرکوں کی تفصیلات دیں، بھارت اس حوالے سے مکمل تفصیلات فراہم نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ جعلی معلومات پر بھارت دنیا میں بے نقاب ہوچکا ہے، بھارت پاکستانیوں کے یوٹیوب چینلز کو جعلی قرار دے کر بلاک کرا رہا ہے، اور اظہار رائے پر پابندی لگا رہا ہے، کشمیر پریس کلب کی بندش صحافیوں کی گرفتاری اس کی واضح مثال ہے، بھارت پاکستان پر الزامات عائد کرتا ہے اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے ٹارگٹ کرتا ہے، لیکن اب خود عالمی اداروں نے جھوٹے پروپیگنڈے پراسے بے نقاب کردیا۔ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ سی پیک کی رفتار سست ہونے کا تاثر درست نہیں، کورونا کے باوجود سی پیک پر کام جاری ہے، سی پیک اہم منصوبہ ہے دورے کے دوران اسکی پیشت رفت کا جائزہ ہوگا۔ وزیر اعظم بیجنگ ونٹر اولپمنکس کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوں گے، اور وزیر اعظم اعلی چینی قیادت سے ملاقات کریں گے، ان کے دورہ چین کے دوران دو طرفہ تعلقات پر بات ہوگی۔ ترجمان نے بتایا کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کا کونسل کا اجلاس 22 اور 23مارچ کو اسلام آباد میں ہوگا، وزیر خارجہ کی او آئی سی سیکرٹری جنرل سے فون پر بات ہوئی ہے، افغانستان پر او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس اور کشمیر کی صورتحال پر بات گقتگو ہوئی، پاکستان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھی حوثی باغیوں کے مزید حملوں کو مذمت کرتا ہے۔