جوکووچ نے آسٹریلوی حکومت کا دوبارہ ویزا منسوخی کا فیصلہ چیلنج کردیا

سڈنی: (کوہ نورنیوز،ویب ڈیسک) ٹینس کے عالمی نمبر ایک سربین کھلاڑی نوواک جوکووچ نے آسٹریلیا کی جانب سے دوبارہ ویزا منسوخی کے فیصلے کو چیلنج کردیا۔ نواک جوکووچ چند روز قبل ہی آسٹریلین بارڈر فورس کے فیصلے کے خلاف قانونی جنگ جیتے تھے اور عدالت نے انہیں آسٹریلیا میں داخلے کی اجازت دی تھی۔ لیکن اب ایک بار پھر آسٹریلوی حکومت نے ٹینس اسٹار کا ویزا دوسری مرتبہ منسوخ کردیا ہے۔ جوکووچ کے وکلا نے ویزا منسوخی کے خلاف عدالت میں حکم امتناع کی درخواست جمع کرادی ہے۔ مقامی عدالت نے سماعت کے بعد کیس فیڈرل کورٹ کو بھجوا دیا ہے جس پر کل صبح سماعت ہوگی۔ اُدھر حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ آسٹریلین حکام نوواک جوکووچ کو ملک سے بے دخل نہیں کر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ مقدمے کا فیصلہ ہونے تک جوکووچ کو ملک سے نہیں نکالا جائے گا اور انہیں امیگریشن حکام کے سامنے پیش ہونے سے پہلے حراست میں بھی نہیں لیا جائے گا۔ خیال رہے کہ جوکووچ کا ویزا گزشتہ ہفتے میلبرن پہنچنے پر کورونا ویکسین کی شرائط پوری نہ کرنے پر آسٹریلوی حکام نے منسوخ کر دیا تھا تاہم آسٹریلوی جج نے اسے بحال کردیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق 34 سالہ جوکووچ کے داخلہ فارم میں کہا گیا کہ انہوں نے 6 جنوری کو آسٹریلیا آنے سے 14 دن قبل کوئی سفر نہیں کیا لیکن ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ سربین کھلاڑی 14 دن کے اندر اسپین اور سربیا میں موجود تھے۔