واش روم جانا سب سے بڑا خوف ؟

برطانیہ : (کوہ نور نیوز) پبلک ٹرانسپورٹ، سماجی فاصلے یا کورونا نہیں … بلکہ ورک فرام ہوم سے کام کی طرف لوٹنے والے ملازمین کو سب سے بڑا خوف واش رومز کا ہے۔ کورونا کی وجہ سے کئی عرصہ گھر میں آرام دہ ماحول میں کام کرنے والے ملازمین کو اب آفس آنا مشکل لگنے لگا ہے۔ برطانیہ میں نئے سروے کے مطابق 18 فیصد ملازمین کو فل ٹائم آفس آنے کے دوران وہاں کے واش رومز کے استعمال میں خوف محسوس ہو رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ مسئلہ خواتین کے لیے زیادہ پریشان کن ہے، 67 فیصد خواتین کا کہنا ہے کہ وہ آفس میں واش رومز استعمال کرنے میں تکلیف محسوس کر رہی ہیں۔ سروے میں 28 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ دفتر کی کسی دوسری منزل کا واش روم استعمال کر لیں گے جبکہ 18 فیصد نے اعتراف کیا کہ وہ سارا دن گزار کر گھر آ کر ہی واش روم کا استعمال کریں گے۔ دی گٹ اسٹف کی بانی لیزا اور الانا میکفرلین نے زور دیا ہے کہ شہری جلد سے جلد اس خوف سے نکلنے کی کوشش کریں اور معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹیں۔ یہ سروے کورونا کے بعد آفس ورک میں واپس آنے کی بحث میں تیزی کے دوران سامنے آیا ہے، کئی ماہرین مستقبل میں ہائبرڈ ورکنگ سسٹم کے فوائد اور نقصانات پر ایک دوسرے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ نے اشارہ کیا ہے کہ اگر دفتر میں ہفتے میں پانچ دن واپس جانے کے لیے کہا گیا تو آفس کے آدھے ملازمین نوکری چھوڑ دیں گے۔ وبائی امراض کے آغاز کے بعد سے ہوم ورک کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، گھر سے کام کرنے والے ملازمین کی 2019 میں تعداد 27 فیصد سے جو بڑھ کر 2021 میں 37 فیصد ہو گئی ہے۔