کورونا ویکسی نیشن مکمل ہونے کے بعد ’’بوسٹر ڈوز‘‘ کی کوئی ضرورت نہیں، ماہرین

جنیوا: (کوہ نور نیوز،ویب ڈیسک) طبی ماہرین کے عالمی پینل کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے کورونا وائرس کے خلاف مکمل ویکسی نیشن کروا لی ہے، انہیں تقویتی کووِڈ 19 ویکسین یعنی ’’بوسٹر ڈوز‘‘ کی کوئی ضرورت نہیں۔ امریکا، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، جمیکا، میکسیکو، جنوبی افریقہ، فرانس اور ہندوستان کے علاوہ عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ ماہرین کی یہ مشترکہ تحقیق معتبر طبّی جریدے ’’دی لینسٹ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔ یہ بات انہوں نے اب تک دنیا بھر میں کووِڈ 19 ویکسین اور اس کی بوسٹر ڈوز پر کی گئی تحقیقات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کہی ہے۔ ان میں میڈیکل ریسرچ جرنلز میں شائع شدہ تحقیقات کے ساتھ ساتھ وہ طبی تحقیقات بھی شامل ہیں جو ’’پری پرنٹ‘‘ سرورز پر حالیہ مہینوں میں شائع کروائی گئی ہیں۔ ان تمام تحقیقات کا جائزہ لینے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کووِڈ 19 کی تمام ویکسینز، اپنی معمول کی خوراک کے حساب سے ناول کورونا وائرس کی تمام اقسام کے خلاف مؤثر ہیں جن میں ’’ڈیلٹا ویریئنٹ‘‘ بھی شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی وبا کے ’’اس مرحلے پر عام آبادی کو بوسٹر ڈوز لگانا بالکل بھی مناسب نہیں۔‘‘ ماہرین کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے کہ جب بیشتر امیر ملکوں کی اکثریتی آبادی میں کورونا ویکسی نیشن مکمل ہوجانے کے بعد کووِڈ 19 ویکسین کی اضافی خوراکیں (بوسٹر ڈوزز) لگائی جارہی ہیں۔ ان ملکوں میں امریکا سرِفہرست ہے جہاں اب تک دس لاکھ سے زیادہ افراد کو بوسٹر ڈوزز لگائی جاچکی ہیں جبکہ اس بارے میں خود امریکی ماہرین میں شدید اختلاف موجود ہے۔ ایک طبقہ بوسٹر ڈوز کے حق میں ہے جبکہ ماہرین کا دوسرا طبقہ اس کے خلاف ہے۔ عالمی ادارہ صحت، امریکا اور دوسرے ملکوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی ویکسی نیشن مکمل ہوچکی ہے، وہ کورونا وائرس سے بڑی حد تک محفوظ ہوچکے ہیں لہٰذا انہیں کووِڈ 19 ویکسین کی مزید کسی خوراک کی فی الحال کوئی ضرورت نہیں۔ واضح رہے کہ امیر ممالک کی جانب سے کووِڈ 19 ویکسین کی ’’بوسٹر ڈوز‘‘ پر اصرار کے نتیجے میں غریب ملکوں کو مفت کورونا ویکسین فراہم کرنے والا عالمی پروگرام ’’کوویکس‘‘ شدید طور پر متاثر ہوا ہے اور اب تک متعدد پسماندہ ممالک میں کورونا ویکسی نیشن درست طور پر شروع نہیں کی جاسکی ہے۔ اس تحقیق میں ماہرین کا پیغام بہت واضح ہے: بوسٹر ڈوز سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ افراد کی کورونا وائرس کے خلاف ویکسی نیشن کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے ورنہ یہ وبا ہمارے لیے مزید خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔