نصیر الدین شاہ پروپیگنڈا فلمیں بنوانے پر بھارتی حکومت پر برس پڑے

ممبئی: (کوہ نور نیوز،ویب ڈیسک) بالی وڈ کے نامور اداکار نصیر الدین شاہ نے بھارتی حکومت کو پروپیگنڈا فلمیں بنوانے پر آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں اداکار نصیر الدین شاہ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت بالی وڈ کے بڑے فلم سازوں اور ہدایت کاروں کو اپنے حق میں فلمیں بنانے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، فلم سازوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ حکومت کی کاوشوں کو فلموں کے ذریعے اجاگر کریں۔ نصیر الدین شاہ نے کہا کہ حکومت پروپیگنڈا فلمیں بنانے کے لیے مالی معاونت بھی کرتی ہے، ایسا نازیوں کے دوران میں کیا جاتا تھا، نازی فلسفے کی تشہیر کے لیے فلمیں بنوائی جاتی تھیں۔ انٹرویو میں نامور اداکار نے بتایا کہ بالی وڈ میں مجھے کبھی امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا تاہم بہت سے موقعوں پر مجھے ہراساں ضرور کیا گیا، فلمی صنعت میں واضح تعصب تو نہیں لیکن اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انڈسٹری کے تین بڑے ’خان‘ آج تک خاموش ہیں۔ بالی وڈ کے تینوں ’خان‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نصیر الدین شاہ نے کہا کہ وہ ہراساں نہ ہوں اس لیے فکر مند ہیں کیونکہ ان کے پاس گنوا دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ اداکار نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ اس وقت بالی وڈ میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ انڈسٹری میں ہماری شراکت داری ایک اہم چیز ہے، انڈسٹری میں آپ جتنی دولت حاصل کرسکتے ہیں اتنی عزت بھی کما سکتے ہیں۔ نصیر الدین نے کہا کہ بالی وڈ کے تینوں ’خان‘ آج بہت اوپر پہنچ گئے ہیں، میں نے کبھی امتیازی سلوک محسوس نہیں کیا، فلمی کیئریئر شروع کرتے ہوئے مجھے اپنا نام تبدیل کرنے کے لیے مشورے ملتے رہے لیکن میں نے نہیں کیا، مجھے نہیں لگتا کہ میرے نام سے میرے کیئریئر پر کوئی فرق پڑا ہو۔